والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے روزمرہ غذائیت کے مشورے، اور وہ علامات جو بتاتی ہیں کہ بچے کو اضافی غذائی مدد درکار ہو سکتی ہے۔
ورژن 1.0 · تازہ کاری 1 جولائی، 2026
خوراک اور غذائیت کی مدد
چیک لسٹ · PDF · 1.1 MB · انگریزی اور اردو
اچھی غذائیت آپ کے بچے کی نشوونما، توانائی اور قوتِ مدافعت میں مدد دیتی ہے۔ یہ صرف روزمرہ کے عمومی مشورے ہیں۔ یہ علاج کا منصوبہ نہیں اور بچے کے ڈاکٹر، ماہرِ غذائیت یا ماہرِ طب کی رہنمائی کا متبادل نہیں۔ کچھ موروثی امراض بھوک، ہاضمے، نشوونما یا جسم میں غذائی اجزاء کے استعمال کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر آپ کے بچے میں کسی جینیاتی یا میٹابولک مرض کی تشخیص ہو چکی ہے تو ہمیشہ اس کے انفرادی طبی غذائی منصوبے پر عمل کریں، چاہے وہ نیچے دیے گئے مشوروں سے مختلف ہو۔
اگر آپ یہ محسوس کریں تو بچے کی طبی ٹیم کو بتائیں:
صرف اس وجہ سے اضافی سپلیمنٹس نہ دیں کہ بچے کو جینیاتی مرض ہے۔ مختلف امراض میں غذائی ضروریات بہت مختلف ہو سکتی ہیں۔
زیادہ تر شیر خوار بچوں کے لیے عالمی ادارہ صحت (WHO) کی موجودہ رہنمائی یہ ہے کہ جہاں ممکن ہو پہلے 6 ماہ صرف ماں کا دودھ پلایا جائے، تقریباً 6 ماہ کی عمر سے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور غذائیں شروع کی جائیں، اور اگر چاہیں تو دیگر غذاؤں کے ساتھ ماں کا دودھ 2 سال یا اس سے زیادہ عمر تک جاری رکھا جائے۔